196

ہم اب بھی انگریز کے غلام ہیں

Abdul Jabbar Khan Columns

تھا عرش پہ اک روز دماغِ اردو

پامالِ خزاں آج ہے باغِ اردو

غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظم

وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغِ اردو

26 اگست 2015 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی زبان اردو کو بطور سرکاری زبان فوری طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو زبان سے متعلق دیا جو اپنی مدت ملازمت پورا ہونے سے ایک روز قبل انہوں نے سنایا تھا ۔

آئین کے آرٹیکل 251 میں قومی زبان اُردو کا بطور سرکاری زبان کا نفاذ اور قومی زبان کے متوازی صوبائی زبانوں کا فروغ شامل ہے۔ اس وقت اس فیصلے کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تحریر کیا گیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو آئین کے آرٹیکل 251 کو بلا تاخیر نافذ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ فیصلے میں قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی ۔ اس وقت عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے۔




لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے باوجود اس حکم نامے پر عمل درآمد نہ کیا گیا۔ بلکہ عدالتوں میں بھی قومی زبان رائج نہیں ہو سکی لیکن سپریم کورٹ نے ایک حال ہی میں کیس کا فیصلہ سنایا جسے اردو زبان میں تحریر کیا گیا تھا۔

پاکستان تحریر انصاف کے منشور میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ قومی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائیں گے خاص کر قومی زبان کو دفتری زبان کے طور نافذ کریں گے۔ اب اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اہم فیصلہ کر لیا ہے وزیراعظم عمران خان نے اس پریکٹس پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ وفاقی کابینہ اجلاس میں اردو کے نفاذ کا ایجنڈا شامل کیا جائے تاکہ اردو کے نفاذ میں جلد از جلد کام مکمل کیا جا سکے۔

گزشتہ حکومتوں نے اردو کے نفاذ کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا تھا اور وزارتوں میں بھی اردو نفاذ پر کوئی خاطر خواہ عملی کام نہیں کیا گیا۔

پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی قومی زبان سے منہ نہیں موڑ اور اپنا نصاب اپنی قومی زبان میں ہی رکھا۔
جاپان ، جرمنی، چین ، فرانس، ترکی ، ملائیشیا، روس ان تمام ممالک نے اپنی قومی زبانوں کو ذریعہ تعلیم قرار دے کر اور انگریزی اور دیگر غیر ملکی زبانوں کو بطور مضمون اپنے نظام تعلیم کا حصہ بنا کر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔




قومی و علاقائی زبانوں میں دی جانے والی تعلیم ہو یا کوئی پیغام وہ زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے با نسبت دیگر زبانوں کے۔ انگریز جب برصغیر میں داخل ہوئے تھے تو ان کی نیت یہاں ہمیشہ رہنے کی تھی لیکن آزادی کے متوالوں نے اپنی جدوجہد سے انہیں نکال باہر کیا اس لیے ان کی مستقبل کی تمام حکمت عملی پر پانی پھر گیا۔

آزادی کی تحریر جس وجہ سے کامیاب ہوئی وہ وجہ تھی وہاں کی علاقائی زبانیں جن میں ہندی اور اردو شامل تھی ، مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات نے تحریک کا کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، انگریز کی خواہش تھی اسے کسی قسم کی مشکل نہ ہو اس لیے باہر سے آ کر اس نے اپنا قانون اور اپنی زبان یہاں تھوپ دی۔

ہم نے انگریز سے تو آزادی حاصل کر لی لیکن انگریز کی زبان اور قوانین سے آزادی حاصل نہ کر سکے اس لیے تو اب بھی ہم آزاد ہو کر بھی انگریزوں کے غلام ہیں ، جناب یہ غلامی نہیں تو اور کیا ہے آپ جن سے نفرت بھی کرتے ہیں برا بھی کہتے ، مذہبی تضاد بھی ہے پھربھی زبان تو ان کی بولتے ہیں۔ اکثر ہم یہ کہے دیتے ہیں کہ تمہارے منہ میں کسی اور کی زبان ہے اس لیے کہتے ہیں کہ اس شخص کے وہ خیالات اپنے نہیں ہوتے جو وہ بیان کر رہا ہوتا ہے۔

ہم نے صرف قومی زبان کو دفن نہیں کیا بلکہ اپنی تہذیب اور تقافت کو بھی دفن کر دیا ہے ثقافت ہو یا تہذیب ، رسم رواج ہوں یا میل جول سب کی بنیاد زبان بنتی ہے۔

ہمارے سکولوں میں سارا کا سارا نصاب انگریزی میں ہے ہم انگریز پڑھنےکو مذہب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں ہمارا بچہ مسجد میں سپارہ پڑھنے جائے نہ جائے لیکن یہ فرض عین ہے وہ انگریز میں ڈاگ اور ڈونکی ضرور یاد رکھے۔ وہ سانپ سے بچ کر رہے لیکن سنیک شوق سے کھاتا رہے پھر یہی سنیک پوری قوم میں زیر گھولتا ہے اور اس کی سوچ میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔

ہم نے اپنی اتنی خوبصورت زبان کو چھوڑ دیا ہے جس کو دنیا میں لوگ شوق سے سیکھتے ہیں

وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ اردو کے نفاذ میں کامیابی حاصل کرجاتی ہے تو یہ بہت بڑا قدم ہو گا اور پوری قوم پر احسان ہو گا۔میں اپنی تحریر کا اختتام اقبال اشعر کے ان اشعار پر کرتا ہوں

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی




دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی

غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا
اقبال نے آئینۂ حق مجھ کو دکھایا
مومن نے سجائی میری خوابوں کی حویلی

ہے ذوق کی عظمت کہ دئیے مجھ کو سہارے
چکبست کے الفت نے میرے خواب سنوارے
فانی نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے
اکبر نے رچائی مری بے رنگ ہتھیلی

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کو زمانہ
اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں