Kartar pur border 186

ایک تاریخی دین کرتار پور بارڈ کھولنے کا کارنامہ

Abdul Jabbar Khan Columns

کرتار پور بارڈ کھولنے کا کارنامہ سابق حکومتیں تو انجام نہ دے سکیں لیکن موجودہ حکومت نے اسے پایا تکمیل تک پہنچا کر یہ کریڈٹ اپنے نام کر لیا

Kartar pur border

آج پوری دنیا پاکستان کے اس اقدام کی تعریف کر رہی ہے ہمیں سیاست اور مذہب کی عینک اتار کر ایک دوسرے کے ساتھ انسانی بنیادوں پر تعلقات قائم کرنے ہوں گے تاریخ بتاتی ہے کہ بابا گرونانک بعداد ،عرب اور دیگر ممالک میں مسلمان بزرگوں سے روحانیت اور توحید کا درس لیتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے راوی کنارے ایک مسجد بنوائی تھی جس میں ایک امام کا انتظام بھی بابا گرو نانک نے خود کروایا ہوا تھا

خیر بات موجودہ صورت حال کی طرف لے آتا ہوں آج کا خطاب وزیر اعظم عمران خان کا ہو یا سدھو پاپا جی کا دونوں نے لاجواب باتیں کی ہیں سدھو پاپا جی نے کہا یہ بارڈر صرف زئراین کی آمد رفت کا سلسلہ نہیں بلکہ انہوں نے بچپن کی بات بھی بتائی کے کہ ایک ٹرین چلا کرتی تھی جس سے دونوں ممالک کے مسافر آتے جاتے تھے اور ساتھ ہی دونوں ممالک کی تجارت بھی ہوتی تھی،بھارتی پنجاب سے سبزیاں اور دوسرا سامان پاکستان سے ہوتا افغانستان سے روس اور یورپ تک اسی راستے سے جایا کرتا تھا۔

ایسے ہی وزیر اعظم عمران خان نے تقریر کی کہ دونوں ممالک اٹیمی طاقت ہیں اور دونوں کا جنگ کرنا بے وقوفی ہوگا جس میں کسی کا کچھ نہیں بچے گا اس سے بہتر ہے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچایا جا ئے۔ دونوں ممالک کی عوام دوستی چاہتی ہے اور اگر لیڈر شپ چاہے تو سب ممکن ہے




میں نے اپنی ایک تحریر میں پہلے بھی لکھ تھا کہ اگر خطے میں پاکستان ،بھارت ، چین ، ایران ، افغانستان دوستانہ تعلقات قائم کر کے آپس میں ہی تجارات شروع کر دیں تو اس پورے خطے میں خوشحالی آ سکتی ہے دنیا کی آدھی سے زیادہ قدرتی پیدا وار اجناس اسی خطے میں پیدا ہوتی ہیں یورپ میں کیا ہے وہاں تو موسم ہی دو ہیں

اب چین بھارت اور پاکستان دنیا کے تیل کی پیدوار کا آدھے سے زیادہ لے جاتے ہیں۔ چین دنیا میں گوشت کی پیدوار کا آدھا حصہ وہ استعمال کرتا ہے ایسے ہی چین کی آٹو انڈسٹری ہو یا زرعی پیدوار یہ تمام ممالک ایک دوسرے سے مال خرید کر اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اپنی ہی کرنسی میں تجارت کر سکتے ہیں۔

اگر یہ دوستی کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو دونوں ممالک کی عوام میں خوشحالی آئے گی ہماری ساری لیڈر شپ اور ادارے اس بات پر متفق ہیں بس بھارت کو تصب کی عینک اتار پھکنا ہو گی اور پاکستان کے اس عظیم کام کا خیر مقدم کرنا ہوگا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں