484

ملک کو چاروں اطراف سے گھیرا جا چکا ہے

موجودہ ملکی حالات میں ہم کیا کر رہے ہیں ؟ سوال سوشل میڈیا سے منسلک ہر فرد اور ہر ٹیم چاہے وہ مذہبی خیالات رکھتا ہو سیاسی شعور کا دعوے دار ہو یا سماجی اور معاشرتی اقدار و روایات کا علم بردار ہو وہ غیر جانب دار ہو یا غیر جانب دار سب کے کردار پر ہے سرسری سی نظر ڈالیں تو ملک کو چاروں اطراف سے گھیرا جا چکا ہے۔ (جاری ہے)




افغانستان میں را اور این ڈی ایس کی ملی بھگت اور اثر ورسوخ اتنا ہے کہ ہمارے ایک پولیس آفیشل کی لاش وزیرِ مملکت برائے داخلہ کو نہیں دی جاتی جبکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ملک میں دوسرے ملک کے شہری کی ہلاکت ہو جائے تو لاش قونصل خانہ کے حوالے کی جاتی ہے یا بارڈر پر حکومتی عہدِداران کے حوالے کی جاتی ہے دوسری طرف ایران بھی پاکستان کو انڈیا کب شہہ پر سرجیکل سٹرایک جیسی دھمکیاں دے رہا ہے اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کی خاطر چاہ بہار سی پورٹ پر اربوں ڈالر کی بھارتی انویسٹمنٹ اسی کا حصہ ہے

بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں انڈیا کا مکمل ہاتھ ہے اب آگے بڑھیں تو عمان نے اپنی سی پورٹ لیز پر اسرائیل کے حوالے کر دی ہے مشرقی جانب پورے باڈر پر ہمارا انڈیا سے واسطہ ہے یعنی کل ملاکر ہر طرف سے انڈیا اور اسرائیل کے نشانے پر ہیں ملک کی اندرونی صورتِ حال یہ ہے کہ 100کھرب کے قریب قرضے میں جکڑے ہوئے ہیں بجلی پانی گیس اور دیگر سہولتوں میں خواری کا سامنا ہے حکومت نئی ہے جس کو قدم جمانے کےلئے وقت درکار ہے۔




فوج عرصہ 20 سال سے حالتِ جنگ میں ہے فوج اور حساس اداروں پر طعنہ زنی کو فرض سمجھ کر ادا کیا جا رہا ہے را اور این ڈی ایس کی شہہ پر منظور پشتین اور اسکے حواری دن رات عوام کو فوج کے خلاف ورگلانے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ہم۔ ۔ ۔ ۔ ہم فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں کافر کافر کے فتوے جاری کر رہے ہیں ۔ سڑکوں بازاروں میں توڑ پھوڑ اور املاک کو نذر آتش کر کہ عشقِ رسول کا ثبوت اپلوڈ کرنے کے چکر میں ہیں۔

بہت سے اعلیٰ ازہان بھی اسی کام میں لگے ہیں طنزو مزاح کا سہارا لے کر دھڑا دھڑ فرقہ بازی اور منافرت کو ہوا دے رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ اب شاعری میں بھی فرقہ پرست خیالات نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔




سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم جو کررہے ہیں وہ درست ہے ۔کیا ہم شام لبیا عراق اور افغانستان کی تباہی بھول چکے ہیں یا اقبال کے شاہینوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ مکار بلی آپ کو دبوچے اپنی آنکھیں کھولیں شاہین کو ہمت ہارنا زیب نہیں دیتا ورنہ شام لبیا عراق اور فلسطین بننے کی تیاری کر لیں فیصلہ اب آپ کے ہاتھ ہے.
آگے شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں