شاعروں کی دنیا ۔ تحریر شبیر بونیری

شبیر بونیری کالم

تصور اور سوچ کی دنیا بہت خوب صورت ہوتی ہے ۔ سوچ پر پابندی کا نہ ہونا ہماری سب سے بڑی خوش قسمتی ہے ورنہ اپنے وطن میں تو ہر طرٖف گھٹا ٹوپ اندھیروں میں لپٹی پابندیاں اور انجان ڈر ہی چھایا رہتا ہے۔ خوشیاں نایاب ہوچکی ہیں اوراب شاذونادر ہی دلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ خوشی ایک خوب صورت پرندے کی مانند ہوتی ہے جو جب اڑان بھرتی ہے تو پورے ماحول کو اپنی رنگینیوں میں گھیر لیتی ہے۔

یہ آج کل حقیقیت میں بہت نایاب ہوچکی ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ شاعر حضرات ہر وقت اس کو خیالی دنیا میں کچھ ایسی فراوانیوں کے ساتھ بانٹتے رہتے ہیں کہ تصور میں ہی سہی لیکن “تاریک راتوں میں جگنو کی روشنی کی مانند” امید کی کرنیں پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

شاعر حضرات حقیقیت میں معصوم واقع ہوئے ہیں ان سے ہزار اختلاف سہی لیکن لفظوں کی بندر بانٹ میں جو دنیا ان کے جادو سے بن جاتی ہے وہ دنیا مجھے ہر چیز سے پیاری ہے کیونکہ وہاں ہر لمحہ سکون جو موجود ہوتا ہے ۔ یہ جب صبح سویرے اٹھتے ہیں تو پھولوں پر موجود شبنم کے قطروں کو بھی ہیرے اور جواہرات بنالیتے ہیں ۔ خزاں رسیدہ پتوں میں زندگی کی بازی ہارنے والے رگوں کو بھی یہ صبح نوبہار کی خوش خبری دیتے ہیں ۔ان کے لئے زندگی کا ہر صفحہ بس ایک پھول ہی ہوتا ہے۔

منتشر چیزوں کو زندگی کی آس دلاکر ان کی سب سے بڑی جیت یہ ہوتی ہے کہ سامنے بیٹھے دوسرے انسان بس ان کے لئے صرف چند تالیاں ہی بجائے لیکن ان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کچھ لمحوں ہی کے لئے سہی لیکن یہ امید کا دیا جلا چکے ہیں۔

سرشام جب بادلوں کی اوٹ سے چمکتا چاند نمودار ہوتا ہے اور پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب پروں کو تیز حرکت دینا شروع کردیتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں تخیل کی موجیں موج ذن ہوجاتی ہیں اور پھر کسی مہربان بادل کی طرح یہ برسنا شروع کردیتے ہیں ۔ جب ان کے قریب بیٹھنے کا موقع مل جاتا ہے تو لمحات دلفریب بن جاتے ہیں ۔ موسیقار اعظم تان سین کی کلاسیکی موسیقی کے راگ بھی تخیل کی ایسی دنیا تخلیق نہ کرسکی جیسی دنیا یہ الفاظ کا شیریں استعمال کرکے تخلیق کرتے ہیں ۔ان کے پاس سب بیٹھتے ہیں لیکن سکون کے متلاشی تو ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے تڑپتی دھوپ میں پیدل میلوں سفر کے بعد ایک ٹھنڈی چھاوں ملی ہو۔

یہ جب محبت اور محبوب کی بات کرتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جس محبوب کے پیچھے میر بھی زندگی کی بازی ہار چکا تھا یہ اس محبوب کو بانہوں میں سلا کر اس پر محبت کی انتہا ہی کردیتے ہیں ۔ یہ بالکل تنگ نظر نہیں ہوتے پوری دنیا کو اپنے محبوب پر نچھاور کرنا اورمحبوب کے لئے آسمان کی وسعتوں میں گھوم پھر کر تارے توڑ لانا ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے ۔ کھبی تاریک راہوں کے رہگزر بن جاتے ہیں ،کھبی جنگلوں کے مکین ،کھبی سنسان راہوں پر اکیلے چلنے والے مسافر ، کھبی یاد ماضی کا بوجھ لئے زندگی سے ناراض بشر،کھبی صبح نو بہار میں کوئل کے خوب صورت نغموں کے ساتھ گنگنانے والے دیوانے ،کھبی خلوت میں بیٹھ کر ظالم پر الفاظ کے نشتر چلانے والے اور کھبی خود پر بیتے دردناک لمحات کا ورد کرنے والے۔ یہ کرتے جو بھی ہیں لیکن حقیقیت یہ ہے کہ جو دنیا یہ بساتے ہیں اس میں زندگی کا اپنا ایک مزہ ہوتا ہے ۔شاعروں کی اس دنیا پر آنکھیں بند کرکے جب بندہ سوچتا ہے تو جی چاہتا ہے بس اسی دنیا کا ہی رہ جائے۔

خیالی دنیا میں کھو جانا اور اس کی رنگینیوں سے دل کو منور کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ انسان اگر دن میں دو چار مرتبہ اس دنیا کی سیرکرنا شروع کرے تو کوئی شک نہیں کہ حقیقت کی دنیا کا حقیقی بوجھ کچھ ہلکا ہوسکے۔




نفرتیں جب حد سے بڑھ جاتی ہیں تو پھر دلوں پر کدورت کے پردے لگ جاتے ہیں ۔ نفرتوں کے دیس میں خیالی پلاؤ ہی پکتے ہیں اور جہاں خیالی پلاؤ ذیادہ پکتے ہیں وہاں زندگی رک جاتی ہے اور یہاں بھی لگ ایسا رہا ہے کہ زندگی کا پہیہ رک چکا ہے۔

زندگی کو جب تلاش کی ضرورت پڑ جائے تو پھر عمریں بیت جاتی ہیں لیکن تلاش مکمل نہیں ہوتی ۔ انسان آبلہ پا کانٹوں کی سیج پر چل سکتا ہےبشرط یہ کہ وہ خوش اور پرسکون ہو لیکن پریشان دل سینے میں لئے پھول کی پتیوں پر بھی ایک لمحہ نہیں چل سکتا۔ یہاں زندگی گزارنے کے لئے خوشی سے ذیادہ پیسوں اور مادہ پرستی کا ہونا ضروری ہے اور انسانوں کی ایسی دنیا میں تو بس آہیں اور سسکیاں ہی ہونگی اور کیوں نہ ہونگی جہاں پیٹ کے دوزخ کا آگ وجود کو ریزہ ریزہ کر رہی ہو ،جہاں مفادات کی خاطر دھوکہ دہی روزمرہ کا معمول بن گیا ہو ،جہاں بھوک اور افلاس کو شکست دینے کے لئے ایک زندگی درکار ہو ،جہاں دندناتے بھیڑئیوں اور ہوس کے پجاریوں سے دن دیہاڑے لوگ کی عزتیں محفوظ نہ ہو ، جہاں مائیں ہر لمحہ رونے پر مجبور ہوں ، جہاں نوجوان زندگی سے نالاں ہوں، جہاں پیسہ مذہب سے ذیادہ اہم ہو،جہاں بادشاہ وقت کے کتوں کا کھانا بھی انسانوں کے کھانوں سے بہتر ہو ، جہاں مکافات عمل کا مفہوم ہی بدل گیا ہو ،جہاں صرف ایک دوسرے کو بے عزت کرنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہو ،جہاں لالچ انسانوں کا سب سے بڑا ہھتیار ہو، جہاں کھوٹے سکے ہی معزز ہو ،جہاں بھائی بھائی کا دشمن ہو ،جہاں پڑوسی کی آہیں سننے والے کان نہ ہوں ،جہاں مظلوم پر برستے کوڑے دیکھنے والی آنکھ نہ ہو، جہاں انصاف کا امیروں کے دہلیز پر دم گھٹ رہا ہو اور جہاں “ہم” کی بجائے “میں” “میں” کی صدائیں ہوں وہاں شاعروں کی بنی بنائی دنیا سے محبت نہ کی جائے تو اور کیا کیا جائے۔




میں نہ خود مایوس ہوں اور نہ آپ کو مایوس کر رہا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے سکون کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ان ممالک میں ہمارا ملک بھی شامل ہے جہاں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اس سے تو اچھا ہے کہ شاعروں کی دنیا میں ہی بندہ کھویا رہے کم از کم زندگی کی تو گارنٹی ہے ۔ میں روز برسوں سے اس تصور کا عادی بن چکا ہوں جس میں دُور ایک پگڈنڈی کے ساتھ کھڑا ایک معصوم انسان ہاتھ میں ایک کاغذ لئے مجھے کچھ سنا رہا ہوتا ہے جس میں محبت ہی زندگی کا اہم اور اصل راز ہوتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں