آسماء حدیدہ کس کےلئے کام کررہی ہے؟ بڑا انکشاف

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوری اسمبلیاں جن پر عوام کی حلال کماٸی سے ٹیکس کی مد میں دیے گٸے کھربوں روپے صرف ہوتے ہیں سواٸے بکواس کے آج تک کوٸی کام نہی کیا۔

اس اسمبلی میں ایک عورت آصمہ حدیدہ جوکہ پاکستان تحریک انصاف کی ایم این اے ہے اس کی پچھلے ماہ کی گفتگو سنی  جس کی تحقيق کرنے میں کافی ٹام لگ گیا۔ جاری ہے۔۔۔




ویسے تو نا اس آصمہ کو بات کرنا آ رہی تھی نا ہی دھنگ سے الفاظ ادا کر پا رہی تھی۔

آصمہ حدیدہ کے مطابق نبیﷺ نے نعوذ باللہ یہودیوں کو خوش کرنے کیلئے قبلہ کا رخ تبدیل کیا تھا۔

نبی محمدﷺ کو یہ بنی اسرائیل سے کہہ رہی ہے حالانکہ نبی محمدﷺ بنی اسماعیل سے ہیں۔




اسکے علاوہ آصمہ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ یمن شام میں جنگیں یہودیوں سے ہورہی ہیں یا کسی اور سے۔

اور یہ بات کہیں سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ بیت المقدس اسرائیل یا یہودیوں کا قبلہ یا انکا دارالحکومت تھا یا ہے۔

کیونکہ انکا قبلہ کہنے کا مطلب یہودیوں کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہے اور آج کل یہودی بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنانے کے حوالے سے بھرپور مہم چلارہے ہیں۔
(تاکہ دجال کیلیے راہ ہموار کی جاٸے)




یہ جو لبرلز پارلیمنٹ میں اسرائیل سے دوستی کی پینگے ڈالنے کا کہہ رہے ہیں ان بدبختوں کو کسی ایک فلسطینی کے خون کا خیال نہ آیا ہزاروں لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے گے صرف ان یہودیوں کی وجہ سے لیکن آج تک کسی ملک نے ان یہودیوں کے خلاف بات تک نہی کی۔

حالانکہ اسرائيل نام کی کوٸی ریاست ہے ہی نہی نا ہی قانونی طریقے سے اسرائيل وجود میں آیا، یہی وجہ تھی کہ اسرائيل کو قاٸداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی تسلیم نہی کیا۔

اور جس ریاست کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ جنہوں پاکستان بنایا انہوں نے تسلیم نہی کیا یہ اسمبلی میں بیٹھے دو ٹکے کے لوگ تسلیم کرنے چلے ہیں۔




عمران خان کو چاہیٸے ان دو ٹکے کے لوگوں کو لگام ڈالے یا پھر اسمبليوں سے اٹھا کر باہر پھینکے۔

پی ٹی آٸی کی حکومت کو ماضی کی حکومتوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے نہ کہ انہی کے نقش قدم پر چل کر اسی منزل پر جا پہنچے اور دوسروں کی طرح ذلیل و خور ہوتا رہے۔

نظریہ پاکستان پر وطن عزیز کی اسلام کے نام پر بنیاد رکھی گئی تھی اور نظریہ پاکستان لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پر ہی یہ ملک قائم ہوا تھا اور اسی نظریٸے پر تاقیامت قاٸم رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

یہی وجہ ہے اس وقت صرف اسلام دشمن قوتوں کا رخ پاکستان کی طرف ہے کیونکہ اسلام دشمن قوتیں یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہیں واحد ریاست پاکستان ہی ہے جو اسلام کا دفاع کر سکتی ہے۔




اور ہمارے جاہل دو ٹکے کے ناکارہ انپڑھ اسمبليوں میں بیٹھے لوگ اسلام دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملاٸے جا رہے ہیں۔

اسمبليوں میں بیٹھے دو ٹکے کے جاہل لوگوں اس قوم کے ان محب اسلام اور محب وطن لوگوں کے خون کو تپش نہ دو جو پاک مزہب اور پاک دھرتی کے ہر دشمن پر نظر رکھے ہوئے ہیں ورنہ اسی تپتے خون میں جل کر راکھ ہو جاو گے، یہ نا سمجھو کہ پاک وطن کی پاک قوم سو رہی ہے اپنا قبلہ درست کر لو کہیں ایسا نا ہو دیر ہو جاٸے۔

اور یاد رکھو

اسرائیل تسلیم نہیں تسخیر ہوگا،،،ان شاء اللہ

#محمدتوقيرخان

اپنا تبصرہ بھیجیں