864

ایک “آسیہ” نامی عیسائی عورت کی اصل اور مکمل کہانی، حیرت انگریز انکشافات

ایک “آسیہ” نامی عیسائی عورت مسلمان عورتوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے کے دوران گھڑے سے پانی پیتی ہے جس پر مسلمان عورتیں غصے میں آ کر اسے بُرا بھلا کہتی ہیں جس کے جواب میں آسیہ اُن مسلمان عورتوں کو بُرا بھلا کہتی جس کے بعد وه تمام عورتیں اِمام مسجد کے پاس جاتی ہیں اور انہیں کہتی ہیں کہ۔۔۔

آسیہ نے مسلمانوں،اسلام اور سرکارِ دو عالم حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے امام صاحب آسیہ کو واجبِ قاتل قرار دیتے ہیں جس کے بعد گاؤں کے سب لوگ اس کے گھر کو گھیر لیتے ہیں پولیس کو اس بات کی خبر ہوتی ہے وه اسی وقت جگہ پر پہنچ کر آسیہ کو لوگوں سے بچا کر گرفتار کر لیتے ہیں پھر کیس چلتا ہے اور سات سال بعد عدالت کہتی ہے کہ ہمیں کوئی ایسا ثبوت یا گواہی نہیں مل رہی جس سے ثابت ہو جاۓ کہ آسیہ نے گستاخِ رسولﷺ کیونکہ آسیہ خود بھی یہ کہہ رہی ہے کہ میں نے اُن عورتوں کو بُرا کہا تھا پر نبیﷺ کی شان میں کوئی گُستاخی نہیں کی۔



لیکن آب ایک خاص طبقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ثبوت ملیں یا نہ ملیں آسیہ کو پھانسی دی جاۓ کیونکہ ممتاز قادری کو اسی کیس کی ہی ایک وجہ سے سلمان تاثیر کو قاتل کرنے پر پھانسی دی گئی ۔۔ میرا ایک سوال ہے کہ آسیہ کو پھانسی دینے کا آپ کا مطالبہ اس وجہ سے ہے کہ وه گستاخِ رسولﷺ ہے یا اس وجہ سے کہ ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی۔۔

اگر تو وجہ دوسری ہے پھر تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن اگر وجہ گستاخِ رسولﷺ ہونا ہے تو اسکا فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے اور آگر ثبوت کے ساتھ ثابت ہو جاۓ کہ وه گستاخ ہے پھر تو قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے لیکن عدالت کے مطابق کوئی ایسی گواہی یا ثبوت ہمیں نہیں مل رہا جس پر آسیہ کو گُستاخ مان کر پھانسی دے دی جاۓ تو۔۔




جناب ڈر کس بات ہے آگر آسیہ یہاں بچ بھی گئی اور سچ میں قصور وار ہوئی تو الله اور رسولﷺ کی عدالت میں تو پکڑی جاۓ گی اور ایک لمحہ سوچیں کے آگر وه سچ میں بے قصور ہوئی تو ہم صرف اپنی ذہنی تسکین کی خاطر کتنے بڑے گناه کے مرتکب ہوں گے کل اسکا معاملہ الله اور رسولﷺ کی عدالت میں ہوں گے اور ہم سب مجرم۔

اور جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ آسیہ موت کے ڈر سے جھوٹ کہہ رہی ہے تو یاد کریں وه واقعہ جب ایک صحابی نے کلمہ پڑھنے کے باوجود ایک شخص کو قتل کر دیا اور کہا کہ




یہ موت کے ڈر کی وجہ سے کلمہ پڑھ رہا تھا جب یہ بات میرے محمدﷺ تک پہنچی تو وه ناراض ہوۓ اور فرمایا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے کلمہ دل سے پڑھا یا موت کے ڈر سے ۔۔ دل کی بات بس الله جانتا ہے اور یہ بس اسکا ہی اِختیار ہے ۔۔ خدا کے واسطے اس اِختیار کو آپنے ہاتھ میں نہ لیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں