846

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کن وجوہات پر آسیہ بی بی کو بری کیا؟

تحریر شاہد خان

دو باتوں میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے!

پہلی گستاخ رسول توبہ کے بغیر پکڑا جائے تو تمام مسالک کے نزدیک اس کو سزائے موت ہونی چاہئے۔ ( میرے نزدیک عبرتناک موت دینی چاہئے)

اگر الزام جھوٹا ہو تو باعزت رہائی ہونی چاہئے۔




یہ نکتہ یاد رکھیں کہ عدالت نے گستاخ رسول ﷺ کو رہا نہیں کیا بلکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا ہے کہ ” گستاخی ثابت نہیں ہوئی ” ۔۔۔

اس لیے سب سے پہلے ان شواہد کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا عدالت نے بے انصافی کی ہے یا شواہد واقعی کمزور تھے۔

ذیل میں بلال شوکت آزاد صاحب کی تحریر سے لیے گئے وہ نقاط پیش کرتا ہوں جن کی بنا پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کو بری کرنے کی جو وجوہات تحریر کی ہیں وہ من وعن یہ ہیں۔

1-وقوعہ 14 جون 2009 کو پیش آیا لیکن اس کی ایف آئی آر پانچ دن بعد 19 جون کو درج کی گئی جس کی وجہ سے مقدمہ کمزور ہو گیا۔

2-اس مقدمے میں عینی شاہد معافیہ بی بی اور اسما بی بی ہیں جنہوں نے گواہی دی کہ آسیہ بی بی نے ان کے سامنے توہین آمیز الفاظ ادا کیے۔ اس موقع پر 25 سے 35 کے درمیان خواتین موجود تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی گواہی دینے نہیں آیا۔

3-دونوں خواتین گواہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے ساتھ ان کا پانی پلانے پر کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا جبکہ دیگر گواہوں نے تسلیم کیا کہ یہ جھگڑا ہوا تھا۔



4-سب سے اہم بات یہ تھی مختلف گواہوں کے بیانات میں فرق تھا۔ جب آسیہ بی بی کا معاملہ پھیلا تو ایک عوامی اجتماع بلایا گیا جہاں آسیہ بی بی سے اقرار جرم کرایا گیا۔ یاد رہے کہ اسی اقرار جرم پر ہی ابتدائی عدالت نے ملزمہ کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس لیے یہ اجتماع بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک گواہ نے کہا کہ اس اجتماع میں 100 افراد شریک تھے، دوسرے نے کہا کہ اس میں 1000 افراد شریک تھے، تیسرے گواہ نے یہ تعداد 2000 بتائی جبکہ چوتھے نے 200 سے 250 کے اعدادوشمار دیے۔ ان بیانات کے فرق کی وجہ سے شکوک پیدا ہوئے اور دنیا کے ہر قانون کے مطابق شک کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے۔

5-اس عوامی اجتماع کے بارے میں ایک گواہ نے کہا کہ یہ اجتماع مختاراحمد کے گھر منعقد ہوا تھا۔ دوسرے نے کہا کہ یہ عبدالستار کے گھر ہوا تھا، تیسرے نے کہا کہ اجتماع رانا رزاق کے گھر ہوا تھا جبکہ چوتھے گواہ کا بیان ہے کہ اجتماع حاجی علی احمد کے ڈیرے پر منعقد ہوا تھا۔

6-اجتماع میں آسیہ بی بی کو لانے کے حوالے سے بھی گواہوں کے بیانات میں تضاد تھا۔ ایک نے کہا کہ اسے یاد نہیں کہ ملزمہ کو کون لایا تھا، دوسرے نے کہا کہ وہ پیدل چل کر آئی تھی، تیسرے نے کہا کہ اسے موٹر سائیکل پر لایا گیا تھا۔

7-اس اجتماع کے وقت اور دورانیے کے بارے میں بھی گواہوں کے بیانات میں اختلاف تھا۔



8-ملزمہ کی گرفتاری کے وقت کے متعلق سب انسپکڑ محمد ارشد کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔

9-ملزمہ سے اعتراف جرم ایک ایسے مجمع کے سامنے کرایا گیا جس میں سینکڑوں لوگ شامل تھے اور جو اسے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ اسے نہ ہی رضاکارانہ بیان قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قانون کے مطابق سزائے موت جیسی انتہائی سزا کے لیے ایسا بیان قابل قبول ہو سکتا ہے۔

10-آسیہ بی بی نے قانون کے تحت جو بیان دیا اس میں انہوں نے حضور پاک ﷺ اور قرآن پاک کی مکمل تعظیم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ تفتیشی افسر کے سامنے بائبل پر حلف اٹھانے کو تیار ہے تاکہ اپنی معصومیت ثابت کر سکے لیکن تفتیشی افسر نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

مندرجہ بالا نکات صرف عدالتی بحث کا نچوڑ نہیں بلکہ ریکارڈڈ ہیں, ان کے دستیاب ثبوت اور گواہان نے ان نکات کو تقویت دی ہے۔

اب کیا احتجاج کرنے والوں کے علم میں گستاخی کے حق میں کوئی ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں جن کے بل پر اس عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیا جا سکے؟؟



اگر ہیں تو سپریم کورٹ سمیت کئی پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں وہ شواہد یا دلائل پیش کیے جانے چاہئیں۔

لیکن اس کے بجائے اگر آسیہ کو لے کر خادم حسین رضوی اور اس جیسے دیگر ملا پاک فوج کے خلاف اپنا بغض نکالنے لگیں، عوامی شاہراہیں بند کریں یا جلاؤ گھیراؤ کریں تو ان سے بڑا فسادی کوئی نہیں۔ تب ان میں، فضل الرحمن میں اور طالبان میں کوئی فرق نہیں۔

یہ بات دوبارہ دہرا رہا ہوں کہ گستاخان رسول سے شدید نفرت ہے اور ان کے خلاف نظریاتی جنگ بھی لڑتا رہا ہوں۔ لیکن گستاخی ثابت ہونی چاہئے!

دوسری بات ۔۔۔ ناموس رسالت کو لے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے والوں سے بڑھ کو ملعون اور کوئی نہیں ہوسکتا تو جو گھٹیا مقاصد کے حصول کے لیے حضورﷺ کے ناموس کو حیلہ بنائیں۔

اللہ کی لعنت ہو ایسوں پر ۔۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کو نشانہ بنانے والے ملا اور گستاخان رسول ایک پیج پر ہیں!

اور لعنت ہو ہمارے عدالتی نظام پر بھی جس نے یہ مقدمہ اتنا لمبا چلا کر سیاسی بنا دیا رہائی یا سزا پر عمل دارآمد آج سے کئی سال پہلے ہوجانا چاہئے تھا۔

تحریر شاہدخان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں