246

پاکستان دیکھ رہا ہے، تحریر شبیر بونیری

شبیر بونیری کالم

پاکستان دیکھ رہا ہے، تحریر شبیر بونیری

غلامی کا طوق ہے جس کی وجہ سے عشرے گزر گئے صرف خوبصورت دریچوں کے اُس پار آزادی کا نظارہ کیا جارہا ہے ۔ سیاست کی مٹی محّب وطن سیاستدانوں کو جنم دینا بھول گئی ہے کیونکہ اس مٹی کی آبیاری بھی وہی کمزورہاتھ کررہے ہیں جن کی زندگی میں صرف اپنی بقاء ہی سب سے مقدم چیز ہوتی ہے۔

یہ کمزورہاتھ خود تو کسی کام کے نہیں لیکن یہ اپنے ساتھ اُن مظبوط ہاتھوں کو بھی اپنی اناء اور ضد کی تیز دھار تلوار سے کاٹ رہے ہیں۔




جمہوریت کی بساط کتنی ہوتی ہے اس کا اس ملک کے عوام کو پتہ نہیں لیکن یہ سیاستدان ہی ہوتے ہیں جو جمہوریت ،انتخابات اور ووٹ کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور جب اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں تو ایک اپنی ذات کے علاوہ پھر ان کو کچھ نظر نہیں آتا ۔ ان ایوانوں کے اندر خواہشوں کے ہزار ایسے جزیرے ہوتے ہیں جہاں انسانی عقل خود کو کئی بے معنی پردوں میں لپیٹ دیتی ہے اور پھر اس میں وہ طوفانی طاقت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ایک حکمران دن رات گلیوں میں مارا مارا پھر رہا ہوتا ہے تاکہ یہ پتہ لگائے کہ رعایا کی آرام میں کوئی خلل تو نہیں پڑ رہا۔
انسانی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ جب طاقت ہاتھ میں آجاتی ہے تو زندگی میں تغیر کا آنا لازمی ہے جس کی وجہ سے طاقت کے نشے میں مدہوش انسان اپنی اصلیت اور اپنا سب کچھ بھول جاتا ہے اور اس ہیجانی کیفیت سے بچنے کی خاطر تاریخ کے بڑے لوگ جب بھی دنیاوی جاہ جلال کے اس مسند پر رونق افروز ہوئے ہیں اللہ سے صرف عاجزی کی دعا مانگی ہے اور پھر ان کے لئے دن اوررات کسی اہمیت کے حامل نہیں رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کی رحمتوں نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے تبھی تو ان کا اقتدار اور ان کی حکومت ایک جگہ نہیں رُکے بلکہ ان کے اثرات ہزاروں میل دور پَرائے ملکوں کے ان تاریک جھونپڑیوں میں بھی پہنچے جہاں انسانیت آخری سانسیں لے رہی تھی۔ حضرت محمدﷺ کی رحلت کے بعد بہت سارے مسائل تھے ،جن کی وجہ سے یہ ڈر تھا کہ شائد سب کچھ ختم ہوجائے لیکن ابوبکر کی دور اندیشی اور بہترین حکمرانی ہی تھی جس نے امت مسلمہ کو سہارا دیا ۔

ہم حقیقیت کو تسلیم نہ کریں تو بھی دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کرسکتی ۔ ہم کھلی آنکھوں سے سامنے اپنی بربادی نہیں دیکھ رہے تو یہ ہماری بصارت کی کمزوری نہیں بلکہ قانون فطرت کا اٹل فیصلہ ہے کہ جنہیں خود اپنی بربادی نظر نہیں آرہی اور جو آگ کے دریا میں کھودنے کا اٹل فیصلہ کرچکے ہوں ان کو اللہ کی رحمتیں کھبی راس نہیں آتیں ۔




یہ سہولتیں جو غصب شدہ ہیں ہوسکتا ہے اس دنیا میں بے ضرر ہوں لیکن وہ دن دور نہیں جب ہر چیز کا حساب ہوگا ۔ ان وقتی سہولتوں میں کتنا سکون ہوسکتا یہ تو نہیں بتایا جاسکتا لیکن ان سہولتوں سے جڑے سخت عذاب ہمیشہ منتظر رہتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ کتنے ظلم ہوئے یہ گننے میں برس لگ سکتے ہیں۔

پاکستان اللہ کی رحمت ہے یہ سمجھانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کو یہ سمجھانہ شروع کردیں کہ تم پر تمہارے والدین کا حق ہے اور ان کی ہر راحت کے تم ذمہ دار ہو ۔ ہم سمجھنے کی صلاحیت رکھتے نہیں تو کس طرح ایک ایسی چیز کو اپنے لئے رحمت سمجھیں جس کے حصول میں ہمیں تھوڑی سی بھی تکلیف نہ پہنچی ہو ۔

ہماری سمت غلط بھی تو ہوسکتی ہے اور اس سچ کو ماننے کا سودا اتنا مہنگا نہیں ہوسکتا جتنا خود اور اپنی ہر فلاسفی کو صحیح ماننے کا سودا مہنگا پڑ رہا ہے ۔ ہم پاکستان کو رحمت مانیں گے تو یہ سوچ خود ہی ختم ہوجائیگی کہ ہمارا ہر کام اور ہماری ہر سوچ صحیح ہے۔ ہم پاکستان کو رحمت خداوندی مانیں گے تو ہمارے مسائل اور ہمارے وقتی اختلافات کھبی آڑے نہیں آئیں گے لیکن اگر ہم اسی طرح اس حقیقیت کو ماننے سے انکاری رہیں کہ پاکستان اللہ کی رحمت ہے تو وہ دن دور نہیں جب ہم تاریخ میں عبرت بنیں گے ۔

اس عبرت کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے تھبی تو ہم سب دکھاوے کی خاطر پاکستان بچانے کا سوچ رہے ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پاکستان کو بچانے کی آخری کوششیں کر رہے ہیں اور ان کوششوں میں ان دو پارٹیوں کو مولانہ صاحب کی کمک بھی حاصل ہے ۔ پاکستان خود بھی شائد اس رحمتوں میں گرے تکون کی طرف بڑھنے کی تگ و دو کر رہا ہے کہ کس طرح یہ خود ان کی گرفت میں آجائے کیونکہ اس کے وجود کو خطرہ جو ہے ۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف بھی پاکستان کو بچانے کی سر تھوڑ کوششیں کر رہی ہے اور پاکستان یہاں بھی اپنی بقاء اور زندگی کے لئے پی ٹی آئی کے زیر سایہ آنے کے لئے پر تول رہا ہے لیکن دونوں جگہوں پر پاکستان کو ایسا نہیں لگ رہا کہ وہ آرام اور سکون دیکھ سکے گا ۔




ہم تاریخ کے سب سے بڑے ناسمجھ لوگ ہیں ۔ ہم صرف اپنے فائدہ کا سوچتے ہیں اور یہ اندازہ نہیں لگاتے کہ پاکستان ہے تو ہم اور ہمارے فائدے ہیں ۔ پاکستان دیکھ رہا ہے بالکل اسی طرح جس طرح یورپ کے اندلس نے کھبی غرناطہ کے محلات میں سازشیوں کو دیکھ کر منہ موڑا تھا اور پھر اندلس اسلام کا اندلس نہ رہا تھا بلکہ یورپ کا جدید سپین بن گیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں