254

ایک تھا بادشاہ تحریر شبیر بونیری

شبیر بونیری کالم

سورج غروب ہورہا تھا میرے سامنے بلندوبالا پہاڑ تھے جن کی چوٹیوں پر سورج کی آخری کرنیں بوسہ دی رہی تھیں ۔ پہاڑوں کے اوپر بادلوں کا نظارا ایسا تھا جیسے دونوں کے درمیان سرگوشیاں چل رہی ہوں ۔

ہُو کے اس عالم میں مَیں واپس جانے کا قصد کرہی رہا تھا کہ ایسے میں میری نظریں ایک بوڑھی اور ضعیف العُمر امّاں پر پڑی جو بکریوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ ہانک کر شائد گھر لوٹ رہی تھی۔




دن بھر کے تھکاوٹ سے چور اسکا ایک ہاتھ اپنی کمر پر تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک لمبی چڑی تھی جس سے وہ اپنے بکریوں کو ڈرا دھمکا کر گھر کی طرف دھکیل رہی تھی ۔ بکریاں بھی خوب چرنے کے بعد شرارتوں پر اتر آئی تھیں ۔ ماں جی کی آواز اس سناٹے بھرے ماحول میں ایک گونج پیدا کررہی تھی۔ میں بھی اپنے ارد گرد سے بے خبر یہ تماشہ دیکھ رہا تھا ۔ میں جس جگہ پر کھڑا تھا اسی جگہ اس کا گھر تھا وہ جب میری قریب آئی تو گُھور کر مجھے دیکھنے لگی ۔ میں جو ٹہرا نئے دور کا انسان گھبراہٹ کے عالم میں وہاں سے کھسکنے والا ہی تھا لیکن اس کی پیار بھری آواز میرے قدموں کی زنجیر بن گئی ۔
میں سوچ رہا تھا شائد اس جگہ میری موجودگی اسے اچھی نہ لگی ہو لیکن جیسے ہی وہ میرے قریب آئی وہ کچھ اس انداز سے گویا ہوئی۔

“مہمان ہو شائد ۔۔۔۔ دور سے آئے ہو ۔ پہلے کبھی نہیں دیکھا تجھے یہاں ۔ آو نہ میرے بچے میرے گھر آو کچھ کھا پی لو”
میں اور میری حیرانگی دونوں حق بجانب تھے کیونکہ جس منظر کا میں نظارا کر رہا تھا ہم اس منظر کو دو عشرے پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔ بوڑھی امّاں کو دیکھ کر مجھے پرانے دور کی وہ ” دادی ” یاد آگئی جو رات کی تاریکیوں میں ایک پورے کنبے کو اپنے پاس بٹھا کر ” ایک تھا بادشاہ ” سے اپنی تربیت کا آغاز کیا کرتی تھی ۔



اور یہی وجہ تھی کہ انجان اور اجنبی بوڑھی امّاں کی محبت بھری باتیں میرے اندر کی جدیدیت کو لات مار رہی تھی ۔
میں اُس کے ساتھ تو جانے سے رہا لیکن ایک بات تھی جس کی وجہ سے میں سرشام ایک بلند جگہ بیٹھ کر سوچنے پر مجبور ہوا ۔ مجھے پرانے دور کی وہ ساری باتیں یاد آگئیں جس کی وجہ سے ڈر اور دوریاں انسانوں کے درمیان بالکل نہ تھیں ۔ وہ پرانا دور جس میں چہارسوں ایسی ہی محبت تھی جب ٹیکنالوجی اور “بریکنگ نیوز” کے اثرات نے ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور ہمارے اقدار کی دھجیاں نہیں اڑائی تھیں ۔ جب انجان لوگوں سے ڈرنا اور ان کے قریب نہ جانے کا تصور بھی نہیں تھا ۔

وہ دور یقیناً خوبصورت تھا جب گھر کے سارے لوگ ایک ساتھ بیٹھتے اور بالخصوص طور پرموسم سرما کی ٹھٹھرتی راتوں میں گھر کے اندر ہی آگ کے آلاؤ کے گرد دادی امّاں کی قسط وارکہانیاں شروع ہوجاتیں ۔ ان کہانیوں کا آغاز اکثر “ایک تھا بادشاہ ۔۔۔۔۔۔۔” سے ہوا کرتا ۔

دادی امّاں کی ان کہانیوں میں زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ نبر آزما ہونے کا انتہائی خوب صورت سبق موجود ہوتا ۔ بہن بھائیوں کے ساتھ اس بیٹھک میں گھر کے سارے افراد موجود ہوتے اکثر ایسا ہوجاتا کہ بہن بھائیوں میں نوک جھونک تکرار کی حد تک پہنچ جاتی لیکن دادی امّاں کی بروقت مداخلت اور فیصلہ کن صلاحیت اس چھوٹے سے سلطنت کو بکھرنے سے بچا دیتی ۔




بہنیں بہت پیاری ہوتی ہیں اور بھائیوں سے محبت کے اظہار میں ہمیشہ پہل کرتی ہیں اور اس دور کے وہ لمحات کتنے خوبصورت ہوتے جب بہن بھائی کو پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھاتی اور پھر محبت کے نہ ختم ہونے والے سلسلے اور بھی دراز ہوجاتے ۔

ماں باپ اپنے بچوں کی شرارتوں اور محبتوں کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔ محفل کا اختتام اکثر دادی کے اس گرجدار آواز کے ساتھ ہوجاتا کہ سب سو جاؤ کل سکول بھی تو جانا ہے ، ایسے میں بتیاں گل کی جاتیں اور رات کا وہ پہر شروع ہوجاتا جس میں بچے تصورات میں گر کر پُرسکون نیند کی وادیوں میں گھم ہوجاتے۔

ِاس دور کے بعد اچانک ” بریکنگ نیوز ” کا زمانہ آیا جس کا آغاز کچھ اس طرح اچانک ہوا کہ رشتوں کی مظبوطی رشتوں کی پامالی میں بدل گئی ۔ گھر کے سارے افراد زندگی کو عجیب نظر سے دیکھنے لگے ۔ دوریاں بڑھ گئی اور ہاتھ میں ٹیکنالوجی آگئی جس کی وجہ سے داستان گو دادی بھی حیران رہ گئی کہ بچوں کی وہ معصومیت اور توجہ کہاں چلی گئی ۔ یہ کیا ہوگیا اب نہ تو میرے پاس کوئی بیٹھتا ہے اور نہ میرا فیصلہ حرف آخر ہوتا ہے ۔ یہ سوچتے سوچتے کہانیوں والی دادی کو کو یہ پتہ بھی نہیں لگ پاتا کہ ذیابیطس اس کی بساط لپیٹنے کے لئے اس کی زندگی میں داخل ہوچکا ہے ۔ اس دور کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ناراض دادی ذیابیطس کے خلاف جنگ ہار گئی اور وہ تمام کہانیاں جو شائد فرضی کہانیاں تھیں دادی امّاں کے ساتھ ہی رخصت ہوگئیں ۔




آج ” بریکنگ نیوز ” کی وجہ سے نت نئی کہانیاں جنم لے رہی ہیں جس کی وجہ سے گھر کے یہی افراد ایک ساتھ بیٹھنے سے گریزاں ہیں ۔ اس جدید دور میں مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ماں باپ کے ساتھ بچوں کا بیٹھنا محال ہوچکا ہے ۔ جدید دور کی دادی کوئی کہانی نہیں سنا پاتی کیونکہ سننے والا گلے سڑے تمہید ” ایک تھا بادشاہ ” سے تنگ آچکا ہے ” ۔۔۔۔۔” ۔ موبائل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہوچکے ہیں ۔ اب کہانیاں بھی موبائل اور سوشل میڈیا ہی پر مل جاتی ہیں ۔ دادیاں اور گھر کے دوسرے بڑے کسی کونے میں موجود بس ایک انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب زندگی کے بوجھ سے چھٹکارا ملے ۔

ایک تھا بادشاہ سنتے سنتے ایک پوری نسل تیار ہوگئی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے کو بے تحاشہ فائدہ ملا ۔ جس ترببیت کا رونا ہم آج رو رہے ہیں یہ گھر کے اُس چھوٹے سے محفل ہی میں ہوجاتی تھی جس کا آغاز دادی کی کہانیوں اور اختتام اس کی گرجدار آواز سے ہوجاتا ۔ اس دور میں سکون ہی سکون تھا وجہ یہ تھی کہ گھر حقیقیت میں گھر ہی ہوا کرتا ۔

ہمارے ٹینشنز اور مسائل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ ہم جن نفسیاتی بیماریوں میں آج بلا وجہ مبتلا ہوچکے ہیں اس کی وجہ یہی دوریاں ہیں ۔ ہم اس دور کی طرف واپس تو نہیں لوٹ سکتے لیکن ” ایک تھا بادشاہ ۔۔۔” کا کلچر اگر دوبارہ پروان چڑھے تو وہ محبت ،خلوص ،صاف نیتی دوبارہ آسکتی ہے جس کی وجہ سے ایک پوری نسل کی ذہن سازی ہوگئی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں