278

ہماری فوج دنیا کی طاقتورترین فوج ہے پندرہ دن میں ہی قبضہ ختم کراسکتے ہیں۔

وزیراعظم ہو تا تو کشمیر کو پندرہ دنوں میں آزاد کر والیتا۔ ایاز میمن
جو جذبہ پاکستانی عوام میں ہے وہ جذبہ حکومت پاکستان کے اندر نہیں ہے۔
لفظی مذمتوں سے کام چلانے والے حکمران کشمیرکو آزاد نہیں کرواسکتے۔
ہماری فوج دنیا کی طاقتورترین فوج ہے پندرہ دن میں ہی قبضہ ختم کراسکتے ہیں۔

کراچی (28.10.2018) چیئر مین کراچی تاجر الائنس و بانی عام آدمی پاکستان ایاز میمن موتی والا نے کشمیر میں 71سالہ بھارتی تسلط اور یوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی پر پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی لفظی مذمتوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔




اگر میں وزیراعظم پاکستان ہو تا تو کشمیر کو پندرہ دنوں میں آزاد کر وا دیتا ،کشمیر کی آزادی میں حکومت کا نیک نیت اور دل کا صاف ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے لیے جذبہ ایسا ہونا چاہیے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے کشمیر کی آزادی لیکر ہی رہینگے ،اور جب پوری قوم کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑی ہے تو بھارتی کا جنگی جنون اتارنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے تاجر الائنس کے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا،انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فوج دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور ترین فوج ہے اس کے ہوتے ہوئے کشمیر میں ظلم وجبر کا بازار نہیں ہونا چاہیے۔

ساری غلطیاں سول حکمرانوں کی ہے جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور جب حکومت میں آتے ہیں توان کے اندر بھارت کے ساتھ مل کر چلنے کی آرزو پیدا ہوجاتی ہے ،انہوں نے کہاکہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی اور دہرا معیار سب کے سامنے ہے ۔ اقوام متحدہ کے علم میں یہ بات بار بار لائی جارہی تھی لیکن انہوں نے خاموشی سادھے رکھی جبکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنا تحقیقاتی کمیشن روانہ کریں جو بھارتی دہشت گردی کا جائزہ لے کر پوری دنیا کو آگاہ کرے۔




ایاز میمن موتی والا نے کہا کہ کشمیر71سالوں سے حق خود ارادیت سے محروم ہے ،کشمیریوں پر سے بھارتی مظالم روکنے کے لیئے ہمیں دوسروں سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنے رویوں پر بھی غور کرنا چاہیے کیونکہ ہماری حکومتیں بھی ظلم کے خلاف بیان بازیوں سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں، آج بھارتی دہشت گردوں نے کشمیری مسلمانوں سے ان کی مذہبی آزادی بھی چھین لی ہے ۔

اپنے حق کے لیے مزاحمت کرنے والوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر کشمیر پر ہو نے والے مظالم پر حکومتی مذمتی بیانات پر تنقید کرنے والے لوگ آج جب خود حکومت میں ہیں تووہ بھی بیانات کی پالیسی تک محدود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں