450

اکیسویں صدی کے صحرا نشین، تحریر شبیر بونیری

بیسویں صدی میں امریکہ کے تھنک ٹینک نے اس امر کو شدت سے محسوس کیا کہ شراب کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بے تحاشہ نقصان ہورہا ہے اور بالخصوص طور پر ہمارے نوجوان طبقے کی تو زندگی دھاؤ پر لگی ہوئی ہے چنانچہ 1930ء میں شراب پر پابندی کا قانون بنایا گیا اور اس قانون کی رو سے شراب کی خریدوفروخت ،شراب بنانا اور اس کے درآمد یا برآمد کو ممنوع قرار دیا گیا ۔

اس سلسلے میں اس قانون سے قبل حکومت
نےسینما،تھیٹر،ریڈیو،کتابوں اور پمفلٹوں کی شکل میں وسیع پروپیگینڈا کیا۔ ان سب چیزوں میں شراب کے نقصانات کو اعداد وشمار کی روشنی میں بیان کیا گیا ۔ ایک اندازے کے مطابق حکومت نے ساڑھے چھ کروڑ ڈالر خرچ کئے اور شراب کے نقصانات بیان کرنے کے لئے نوے ارب صفحے سیاہ کئے اور اسکے تنفیذ کے لئے پینتالیس لاکھ پاونڈ خرچ کئے۔ اس قانون کو امریکہ کے دونوں ایوانوں نے متفقہ طور پر منظور کرکے اس کو اٹھارویں ترمیم کا نام دیا۔ (جاری ہے)




اس قانون کے نفاذ سے پہلے چار سو رجسٹرڈ مئے خانے تھے لیکن اس ترمیم کے بعد مذکورہ تعداد چار سو سے بڑھ کر اناسی ہزار چار سو ستاؤن ہوگئی اور بیس کروڑ گیلن روزانہ کی تعداد میں شراب کا استعمال ہونے لگا ۔ اس قانون کو لاگو کرنے سے پہلے تین ہزار ساتھ سو اکیتالیس لوگ شراب نوشی کی وجہ سے متاثر اور دو سو باؤن ہلاک ہوچکے تھے لیکن اس قانون کے نفاذ کے بعد گیارہ ہزار چار سو چھ لوگ فوراً متاثر ہوگئے جبکہ ساتھ ہزار پانچ سو افراد ہلاک ہوگئے ۔

دوسری جانب 1930 سے 1933 تک اعداد و شمار کے مطابق اس قانون کی نفاذ کی وجہ سے دو سو افراد قتل ہوئے اور پانچ لاکھ افراد گرفتار ہوئے جبکہ اس دوران پندرہ لاکھ پاونڈ جرمانہ کئے گئے اس بگڑی ہوئی صورتحال کو دیکھ کر مجبوراً اس قانون کو معطل کرنا پڑا ۔

اب ہم ایک ایسے معاشرے کا ذکر کرتے ہیں جہاں جہالت عام تھی اور اتنی عام تھی کہ بیٹیوں کو سرعام زندہ درگور کیا جاتا تھا ۔ عصمت دری عروج پر تھی اور ایک دوسرے کی عزتوں کو تار تار کیا جاتا تھا ۔ لات ،عزیٰ،ہبل ،منات اور نائیلہ سے کیا کیا نہیں مانگا جاتا تھا ۔ ایک دور ایسا بھی آیا تھا جب انسانوں سے ذیادہ ان کے خدا تھے اور اسی معاشرے میں شراب کی اتنی کثرت تھی کہ آج تک کسی بھی جگہ دیکھنے کو نہیں ملی وہاں شراب کے ڈھائی سو مختلف نام تھے۔




شراب کے ساتھ اُن کی محبت اتنی ذیادہ تھی کہ پوری پوری رات جام کے ساتھ گزر جاتی تھی لیکن جب شراب کے بارے میں حضورﷺ سے خود صحابہ نے پوچھا تو سورہ بقرہ کی آیت نازل ہوئی ۔ بار بار پوچھا تو پھر سورہ النساء کی آیات کا نزول ہوا اور آخر میں جب سورہ المائدہ کی آیتیں نازل ہوئیں تو شراب پر مکمل پابندی لگی ۔ ان آیات کے نزول کا اتنا اثر ہوا کہ شراب کے ہزاروں مٹکے توڑ دیئے گئے اور ایسا بھی تاریخ میں موجود ہے کہ ایک صحابی نے جیسے ہی یہ آیتیں سنی تو گلیوں میں بھاگتا ہوا ان آیات کا اعلان کرتا رہا اور جس جس نے بھی سنا انہوں نے شراب کے وہ جام بھی توڑ دیئے جو ان کے ہونٹوں کے بالکل قریب تھے ۔

ہم اگر مغرب کے اس اپروچ کے مقابلے میں آج سے چودہ سو سال پہلے کی حالت کا اندازہ لگائیں تو ہم حیران رہ جائیں گے کہ جس معاشرے نے اللہ کے احکامات کی پاسداری کی وہ اخلاقیات کا بھرکس نکالنے والا معاشرہ تھا لیکن احکامات فطری تھے اور ان کے نفاذ کے لئے جس کردار کا ہونا ضروری تھا وہ ایسا ہی تھا جیسے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ایک دیا ۔ ان احکامات کا اتنا زبردست فائدہ ہوا کہ آج تک اُس جیسا معاشرہ کھبی وجود میں آیا ہی نہیں۔

یہ قانون جب بنا تو اتنا نیچرل اور زبردست تھا کہ جب آپ ﷺ کے سامنے بنی مخزوم کی ایک چور عورت کی سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا بخدا اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو میں اس کے ہاتھ کاٹوں گا۔ ہم اگر مغرب کے بنائے ہوئے قانون اور اسلام کے احکامات کا جائزہ لیں تو ہم حیران رہ جائیں گے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور انسان کے بنائے قانون میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور جب تک روئے زمین پر بسنے والے مسلمان اللہ کے اس قانون کو دل سے تسلیم کرکے اس پر عمل نہیں کریں گے ایسے ہی صبح شام مسائل میں گرے کٹتے رہیں گے۔




امریکہ نے شراب کے خلاف ایک چھوٹی سی ترمیم کی اور پھر اس ترمیم کو صحیح جواز فراہم کرنے کی خاطر کروڑوں روپے بھی خرچ کئے اور انتہائی بڑا پروپیگنڈہ بھی کیا لیکن ناکام رہا کیونکہ اُس قانون میں فطری آمادگی نہ تھی ۔ ہمارے ملک میں ساتھ عشروں سے ایسی ہی صورتحال ہے ۔ ہم بھی صرف ترامیم کرکے ہی حالات کے جبر سے چھٹکارا حاصل کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ بالکل نہیں سوچتے کہ ہمارے پاس قانون کا ایک مجموعہ قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے لیکن ہم نے قرآن پاک کو الماریوں کی زینت بنایا ہوا ہے۔ ہم قرآن کے احکامات اور منشور کو جب تک خود پر لاگو نہیں کریں گے ہمارے قرضے بھی بڑھتے رہیں گے اور ہمارے وہ مسائل جن کو ہم بے روزگاری ،غربت ، کرپشن ،اقرباءپروری اور مایوسی کا نام دیتے ہیں اسی طرح روز بہ روز بڑھتے رہیں گے۔

اسلام ایک مکمل ظابطہ حیات ہے اور جن احکامات پر عمل کا اسلام نے کہا ہے وہ جب لاگو ہوجاتے ہیں تو پھر نہ غلامی کی زنجیریں رہتی ہیں اور نہ اس بات پر دن رات بلا وجہ بحث ہوتے ہیں کہ ہم اور ہماری حالت کیوں نہیں بدلتی ۔ شراب کی لت کو جس امریکہ نے بارہ سال میں نہیں روکا اس کو اسلام نے لمحوں کی دیر میں نہ صرف روکا، بلکہ اس کے خلاف بغیر کسی خرچہ کے اتنی نفرت پیدا کی کہ آج چودہ سو سال بیت جانے کے باوجود ہمارے معاشرے میں اگر حقیقت میں کسی چیز سے نفرت کی جاتی ہے تو وہ شراب ہے۔

ہم سب اگر بشمول حکمرانان پاکستان اگر اس صحابی کی طرح بننے کی کوشش کریں جو مدینے کی گلیوں میں بلند آواز میں اسلام کا یہ نیا حکم سنانے پر لوگوں کو آمادہ کر رہا تھا تو یقین کیجیئے ہمارے مسائل سالوں اور مہینوں میں نہیں دنوں میں حل ہونا شروع ہوجائیں گے اور ایک دن آئیگا جب ہمیں بھی اکیسویں صدی کے صحرا نشینوں کے طور پر یاد رکھا جائیگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں