بھوک کی شرح سب سے زیادہ ایشیائی ممالک میں ہے، بھوک کا شکار ممالک میں پاکستان کونسے نمبر ہے پر؟

16 اکتوبر (خوراک کا عالمی دن)
ایک مخبِ وطن پاکستانی کے طور پر جب پاکستان کے حالات پر نظر ڈالتا ہوں تو بہت سارے مثبت اشاروں کے ساتھ کچھ باتوں پر ندامت کی وجہ سے عالمی سطح پر سر نیچے کرنا پڑتا ہے. جسمیں آج کے دن کے خوالہ سے بات کرونگا.

پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور 8.1 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمری میں ہی وفات پا جاتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خوراک کا عالمی دن منایا جارہا ہے، پاکستان بھوک کا شکار ممالک میں 14ویں نمبر پر ہے۔




گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 80 کروڑ سے زائد افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ 22 ممالک ایسے ہیں جو شدید غذائی بحران کا شکار ہیں، ان میں سے 16 ممالک میں قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی بحران بڑھا۔

بھوک کی شرح سب سے زیادہ ایشیائی ممالک میں ہے، بھوک کا شکار ممالک میں پاکستان کا نمبر رواں برس 14 واں ہے اور یہاں کی 21 کروڑ آبادی میں سے پانچ کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں، جنہیں پیٹ بھرکر روٹی میسر نہیں۔
اقوام متحدہ کوشش کر رہی ہے اس بحران کو 2030 تک ختم کرے.




اللہ نے پاکستان کو ایک زرعی ملک بنایا ہے لیکن پھر بھی غذائی قلت کا شکار ہونے والا ہے. اگر ہم ڈیم تعمیر کریں اور پھر اس پانی کو سٹور کرکے زراعت اور آبپاشی کے لیے استعمال کریں تو اس ممکنہ مسئلہ سے بچ سکتے ہیں. آئیں ملکر ڈیم بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں. اور خوراک میں خود کفیل ہو جائیں.

تجزیہ و تخریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں