آلودہ پانی کی وجہ سے ضلع بونیر میں ہپٹائٹس اور دوسرے امراض انتہائی تیزی سے بڑھ رہے ہیں

درخواست بنام وزیر اعظم پاکستان, وزیراعلیٰ کے پی کے, ضلع بونیر کے تمام عوامی نمائیندے, متعلقہ سرکاری افسران اور غیور عوام.

ضلع بونیر کی آبادی تقریباً 9 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے. چونکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں کے پہاڑوں سے یومیہ ہزاروں ٹن ماربل نکالا جاتا ہے جو پاکستان کے مختلف حصّوں کو سپلائی کیا جاتا ہے. لیکن اس ماربل کا کچھ حصّہ مذید کاروائی کے لیے ضلع بونیر میں موجود ماربل فیکٹریز کو بھی سپلائی کیا جاتا ہے.

کٹائی کے دوران نکلا ہوا آلودہ پانی ضلع کے تمام دریاؤں اور نالوں کو بھی آلودہ کرتا ہے. جسکی وجہ سے یہاں کے انسان, حیوانات, نباتات, حشرات, ماخولیات یہاں تک کہ ہر چیز پر اثر انداز ہوچکی ہے. یہاں کی سڑکیں بھاری ٹرکوں کی وجہ سے ہمیشہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہیں.

اور ساتھ ساتھ ایکسیڈنٹ بھی ہوتے رہتے ہیں. آلودہ پانی کی وجہ سے ضلع بونیر میں ہپٹائٹس اور دوسرے امراض انتہائی تیزی سے بڑھ رہے ہیں. کئی بار کُھلی کچھریوں میں مقامی حُکام کو مناسب اقدامات کے لیے فریاد ریکارڈ کی ہے لیکن ابھی تک ان کے طرف سے کوئی تسلی بخش عملی جواب نہی دیا گیا ہے.

اب جبکہ پاکستان میں ایک نیا پراجیکٹ لانچ ہوا ہے جسکا نام “صاف اور شفاف پاکستان” ہے. براہِ کرم اس پروجیکٹ کے زریغے بونیر میں رہنے والے تمام خُدائی مخلوق پر رحم فرمائیں اور اس آفت سے ہماری جان چھڑائیں. اس کاروبار سے منسلک لوگوں کے لیے قوانین وضع کیے جائیں اور فضلہ کو ڈسپوز کرنے کے لیے ان کی مدد اور رہنمائی کی جائے.

ضلع بونیرسے تعلق رکھنے والے ہر فرد اور میڈیا کے دوستوں صےدرخواست ہے کہ اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ پاکستان کے ہر کونے تک ہر انسان اور حاص کر وزیراعظم پاکستان تک ضرور یہ پیغام پہنچ جائے. شکریہ.

تخریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں