422

آئی ایم ایف کے پاس جانے پر تنقید کیوں؟ تحریر بخت روم شاہ

آئی ایم ایف کے پاس جانے پر تنقید کیوں?

مجھے ایسا لگتا ہے کہ الیکشن سے پہلے امریکہ ، چائنا ، فرانس ، جرمنی وغیرہ ہمارے مقروض تھے ۔ عمران خان نے آ کر 55 دنوں میں معیشت کا بیڑا غرق کر دیا۔

عجب قوم ہے تنقید کرنے والوں کو سورہ اخلاص پڑھنا تو آتا نہی. ملک کا ترانہ یاد نہی. ایک دن کبھی دھاڑی کی نہی. ایک گھنٹہ کبھی ٹاٹ کےسکول میں گزارہ نہی. تجربے کا یہ خال ہے کہ میٹر ریڈر بھی ایوان زیریں و بالا کا ممبر بنے. وہ بھی فوج پر تنقید کرے جس نے ایک دن بھی فوجی لنگر کا ایک وقت کا کھانا نہ کھایا ہو. وہ بھی تنقید کرے جو کئی دہائیوں سے حکومت میں رہ کر بھی اُسکے اپنے صوبے میں جانور اور انسان ایک ہی جوھڑ سے پانی پیتے ہوں. حتم نبوت کے بل پر دستخط کرنے والے بھی اسلام نافظ کرنے کی بات کرتے ہیں. خُدائی خدمت گار جو خدمت کی بات کرتے تھے. حکومت کرتے وقت لوگوں کے سروں کی قیمتیں امریکہ سی وصول کر چکے ہیں.

ہم کب بحیثیت قوم اپنے ملک کے لیے مخلص بنینگے. خُدا را یہ ملک صرف عمران خان کا نہی. 22 کروڑ عوام کا ہے. ہوش کے ناخن لو. تنقید کرنے والوں کا کیا. خالات جیسے بھی بن جائے تو وہ دوسرے ملکوں میں بھاگ کر رہ لینگے. ہم غریب کیا کرینگے. اپنے ملک پر فخر کریں. بُرے دن ہمیشہ نہی ہوتے. انشاءاللہ گریٹ لیڈر کے حکومت میں ہم ضرور گریٹ قوم ضرور بنینگے.
اللہ ہمارا حامی اور ناصر رہے. پاکستان ذندہ باد
تخریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں