425

حکومت کو درپیش مسائل اور اپوزیشن کی بے جا تنقید

ملکِ خُدادا کی عمر 71 سال اور کچھ دن ہے. اور موجودہ حکومت کی عمر 50 ایام ہیں. اس وقت ملک مسائلستان ہے لیکن کچھ چیدہ چیدہ مسائل قلم بند کرنے کی کوشش کررہا ہوں جو مندرجہ ذیل ہیں.

غربت، بے روزگاری، بچوں کی نشوونما، تعلیم و صحت اور صاف پانی جیسے مسائل سے نمٹنے کی پلاننگ۔ بلدیاتی نظام یا بیوروکریسی میں اصلاحات یا پھر پولیس میں بہتری، پاکستان کے داخلی و خارجی سیکیورٹی مسائل یا پھر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور معیشت میں بہتری.

ملکی خزانہ ڈاکوؤں اور لُٹیروں نے تو لوٹ کر خالی کر لیا ہے. لوٹنے والے کچھ ملک میں موجود اور کچھ فرار ہیں. انکے اوپر مقدمات چل رہے ہیں لیکن پیسہ واپس آنے میں دیر ہے. خان صاحب کے پاس ملک کو چلانے کے لیے دو ہی اپپشن ہیں. ایک آئی ایم ایف کے پاس جائے یا غیرتمند قوم کی طرح قرض کو لات مار کر عوام پر ٹیکس لگائے اور حکومت کو چلائے.

خان صاحب نے پہلی اپشن کو مسترد کرتے ہوئے ٹیکس لگایا. اب تھوڑی سی مہنگائی کی لہر آئی ہے لیکن غلامی قبول نہی کی.
انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائیگا. عوام کو ساتھ دینا ہوگا. اپوزیشن اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لیے چیخیں مار رہی ہے. اب انکی گردنے شکنجے میں آئی ہوئی ہیں. اب ان ظالموں کو اختساب کا سامنا ضرور کرنا ہوگا.

تخریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں